Wednesday, 19 November 2014

فیس بک کلر چینجر وائرس سے خبردار رہیں

فیس بک کلر چینجر وائرس سے خبردار رہیں
فیس بک ماضی میں بھی کئی طرح کے مال ویئر کا نشانہ بنتی رہی ہے۔ آج کل پھر فیس بک کلر چینجر نامی وائرس نے فیس بک صارفین پر دھاوا بول رکھا ہے۔ دیکھنے میں یہ ایک بالکل ٹھیک ایپلی کیشن لگتی ہے جو فیس بک ٹائم لائن کا رنگ بدلنے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن در حقیقت یہ مال ویئر زدہ ویب سائٹ پر ری ڈائریکٹ کر دیتی ہے۔ اگر آپ فیس بک ڈیسک ٹاپ پر دیکھ رہے ہوں تو یہ ایک وڈیو ویب سائٹ پر منتقل کرتی ہے جہاں وڈیو دیکھنے کے لیے پلگ اِن انسٹال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے جو کہ درحقیقت مال ویئر ہوتا ہے۔ جبکہ صارف اینڈروئیڈ استعمال کر رہا ہو تو یہ فیس بک کا رنگ بدلنے کے لیے ایک ڈاؤن لوڈ لنک دیتی ہے، یہ بھی مال ویئر ہی ہے۔
روزانہ کئی لوگ کمپیوٹنگ کے فیس بک پیج پر بھی فیس بک کلر چینجر کا لنک تبصروں میں پیسٹ کرتے ہیں، ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ایسے تبصرے فوراً حذف کر کے تبصرہ کرنے والے کو بین کر دیا جائے۔ اگر کبھی آپ کو ایسا کوئی تبصرہ نظر آئے تو اس لنک کو بالکل بھی مت کھولیں۔
facebook-color-changer
اگر کبھی آپ فیس بک کلر چینجر کے بارے میں کوئی پوسٹ اپنے دوست کی ٹائم لائن پر دیکھیں تو اس پر کلک کرنے یا آزمانے کی کوشش مت کریں۔ اور اگر پہلے ہی اس کا نشانہ بن چکے ہیں تو آپ کو اپنا فیس بک پاس ورڈ فوراً بدل لینا چاہیے۔
facebook-color-changer2
پاس ورڈ بدلنے کے بعد فوراً اس ایپلی کیشن کو اپنے اکاؤنٹ سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے سیٹنگز میں آ کر Apps پر کلک کریں۔
یہاں جتنی ایپلی کیشنز آپ کے استعمال میں ہوں گی کی لسٹ موجود ہو گی۔ فیس بک کلر چینجر اگر یہاں موجود ہے تو کراس پر کلک کر کے اسے ڈیلیٹ کر دیں۔
ایپلی کیشن کو ڈیلیٹ کرنے کے بعد اپنا کمپیوٹر ضرور اینٹی وائرس سے اسکین کر لیں۔

ایک پی سی کا تمام ڈیٹا و پروگرام دوسرے پی سی پر منتقل کریں

ایک پی سی کا تمام ڈیٹا و پروگرام دوسرے پی سی پر منتقل کریں
کمپیوٹر بدلنے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ پرانا ڈیٹا نئے پی سی پر منتقل ہونا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ضرورت کے تمام تر پروگرامز کو بھی نئے پی سی پر دوبارہ سے انسٹال کرنا پڑتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ایک آپریٹنگ سسٹم سے دوسرے پر منتقل ہوتے ہوئے بھی یہی کام کرنا پڑتا ہے مثلاً اگر آپ ونڈوز ایکس پی سے ونڈوز سیون پر منتقل ہو رہے ہوں۔ تیسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ آپ کو صرف ایک کمپیوٹر سے دوسرے پر ڈیٹا منتقل کرنا ہو۔ ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپ 32 بٹ آپریٹنگ سسٹم سے 64 بٹ پر تشریف لے جا رہے ہوں۔ چاہے جو بھی صورت حال ہو ’’ٹوڈو پی سی ٹرانس‘‘ (Todo PCTrans) یہ کام بہت ہی خوش اسلوبی سے انجام دے سکتا ہے۔
ٹوڈو پی سی ٹرانس ونڈوز کے تقریباً تمام آپریٹنگ سسٹمز جیسے کہ ونڈوز ایکس پی، وستا، سیون اور ایٹ کے لیے ایک بہترین پی سی مائیگریشن سافٹ ویئر ہے۔ یہ بہت ہی آسانی اور حفاظت کے ساتھ تمام ڈاکیومنٹس، فائلز، فولڈرز، فوٹوز، میوزک اور تمام انسٹال پروگرامز ان کی تمام تر سیٹنگز کے ساتھ ایک ونڈوز پی سی سے دوسرے ونڈوز پی سی پر منتقل کر سکتا ہے۔ یعنی اس کے ذریعے منتقل کیے گئے پروگرامز کو دوبارہ انسٹال کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے علاوہ یہ اس عمل کے دوران پرانے پی سی سے کچھ بھی ڈیلیٹ نہیں کرتا، وہ بالکل اپنی اصلی حالت میں موجود رہتا ہے۔ اسے استعمال کرنے کے لیے شرط یہ ہے کہ دونوں کمپیوٹرز ایک ہی LAN نیٹ ورک پر موجود ہوں۔

یہ کیسے کام کرتا ہے؟

-1 سب سے پہلے دونوں کمپیوٹرز پر ٹوڈو پی سی ٹرانس انسٹال کریں۔
-2 دونوں کمپیوٹرز پر اس پروگرام کو چلائیں اور منتخب کریں کس پی سی کا ڈیٹا منتقل کرنا ہے۔
-3 منتخب کریں کہ کون کون سا ڈیٹا منتقل کیا جائے جیسے کہ پروگرامز، میوزک، تصاویر، ڈاکیومنٹس وغیرہ۔ اس کے بعد ٹرانسفر کا آغاز کر دیں۔
-4 تمام کام مکمل ہونے کے بعد نئے کمپیوٹر پر تمام چیزیں بالکل پرانے کمپیوٹر کی طرح موجود ہوں گی۔
easeus-todo-pctrans2
اگر صرف ڈیٹا ایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیوٹر میں ٹرانسفر کرنا ہو تب تو اس کے مفت ورژن میں کوئی خامی نہیں، لیکن ظاہر ہے کہ کمال تبھی ہے جب یہ انسٹال شدہ پروگرامز کو مکمل سیٹنگز کے ساتھ دوسرے کمپیوٹر پر منتقل کر دے۔ اس نکتے پر اس کا مفت ورژن خامی کا شکار ہے کیونکہ اس صورت میں یہ صرف دو منتخب ایپلی کیشنز کو منتقل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم پروفیشنل ورژن جو کہ چالیس امریکی ڈالر کے عوض دستیاب ہے لاتعداد پروگرامز کو منتقل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
فائل سائز: 4.4 MB
مطابقت: تمام ونڈوز ورژنز

فولڈر پر بنا کسی سافٹ ویئر کے پاس ورڈ لگائیں

فولڈر پر بنا کسی سافٹ ویئر کے پاس ورڈ لگائیں
فولڈر پر پاس ورڈ لگانے کے کئی طریقے موجود ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر طریقوں میں سافٹ ویئر استعمال ہوتے ہیں۔ اس ٹپ کی بدولت آپ باآسانی ایک پاس ورڈ سے محفوظ فولڈر بنا سکتے ہیں۔ لیکن اسے پہلے ایک نیا فولڈر بنا کراور اس میں چند عام فائلیں کاپی کر کے آزمائیں، جب اچھی طرح سمجھ آجائے تب اپنا اہم ڈیٹا اس فولڈر میں رکھیں، تاکہ کسی قسم کا نقصان نہ ہو۔
اس کام کے لیے کہیں بھی ایک نیا فولڈر بنا لیں۔ فولڈر کے اندر رائٹ کلک کر کے New کے مینو سے Text document منتخب کر لیں۔
اب اس بنائی گئی ٹیکسٹ فائل میں آپ کو کوڈ پیسٹ کرنا ہے۔ یہ کوڈ چونکہ کچھ طویل ہے اور اسے ٹائپ کرنا مشکل ہے اس لیے ہم نے ایک ورڈ فائل بنا کر آپ کے لیے درج ذیل ربط پر رکھی ہے، اسے کھول کر یہاں سے ٹیکسٹ کاپی کر لیں اور نوٹ پیڈ فائل میں پیسٹ کریں:
http://bit.ly/folder-locker
اس کوڈ میں جہاں computing2014 لکھا ہے یہاں آپ کو اپنا پاس ورڈ لکھنا ہے۔ اگر آپ یہ ایڈٹ نہ کریں تو یہی اس فولڈر کا پاس ورڈ ہو گا۔ اب اس ٹیکسٹ فائل کوئی بھی نام دے کر آخر میں.bat ایکسٹینشن دیں اور نیچے موجود Save as type میں All files کرتے ہوئے save کر دیں۔
Folder-locker
فرض کریں آپ نے فولڈر کے اندر locker.bat کے نام سے فائل بنا لی ہے۔اب آپ اسے ڈبل کلک کر کے چلائیں تو یہ اسی فولڈر کے اندر ایک نیا فولڈر بنا دے گی۔ یہی آپ کا خفیہ فولڈر ہو گا۔
locker.bat فائل پر دوبارہ ڈبل کلک کریں تو کمانڈ پرامپٹ کی ایک ونڈو کھل جائے گی اور پوچھا جائے گا کہ کیا آپ اس فولڈر کو لاک کرنا چاہتے ہیں۔Y لکھ کر انٹر پریس کر دیں۔ فولڈر فوراً ہی غائب ہو جائے گا۔
اسی لاکر فائل پر دوبارہ ڈبل کلک کریں تو کمانڈ پرامپٹ ونڈو دوبارہ کھل جائے گی جس میں پاس ورڈ طلب کیا جائے گا۔
Folder-locker2
درست پاس ورڈ ٹائپ کر کے انٹر پریس کرتے ہی فولڈر واپس آجائے گا۔ جبکہ غلط پاس ورڈ کی صورت میں فولڈر نظر نہیں آئے گا۔
Folder-locker3
یقیناً یہ کوئی زیادہ محفوظ طریقہ نہیں ہے کیونکہ پاس ورڈ locker.bat فائل کے اندر لکھا ہے جسے جب چاہیں رائٹ کلک کر کے ایڈٹ پر کلک کرنے سے نوٹ پیڈ میں کھول کر دیکھا اور پاس ورڈ بدلا جا سکتا ہے۔ پاس ورڈ بھول جانے کی صورت میں بھی اسی فائل کو ایڈٹ کر کے دیکھیں۔
Folder-locker4
لیکن یہ ایک دلچسپ تجربہ ضرور ہے۔ اگر آپ اس لاکر فائل کا نام ایسا رکھیں کہ کوئی اسے نہ کھولے یا اسے hide کر دیں تو اس طریقے سے بھی اپنا ذاتی ڈیٹا دوسروں سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ اس ٹپ کی بدولت آپ جس ڈائریکٹری میں چاہیں پاس ورڈ سے محفوظ ایک فولڈر ضرور تیار کر سکتے ہیں لیکن پہلے سے موجود کسی فولڈر پر پاس ورڈ نہیں لگا سکتے۔ اس کے علاوہ لاکر فائل کے ڈیلیٹ ہونے سے آپ کا ڈیٹا بھی ضائع ہو سکتا ہے۔

گم شدہ فون، ٹیبلٹ یا لیپ ٹاپ کا کیسے سراغ لگائیں

گم شدہ فون، ٹیبلٹ یا لیپ ٹاپ کا کیسے سراغ لگائیں
ایپل کی جانب سے اپنے صارفین کو “Find My Mac” نامی سروس فراہم کی جاتی ہے جس سے گم شدہ میک کمپیوٹرز کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ تاہم مائیکروسافٹ کی جانب سے ونڈوز صارفین کے لیے ایسی کوئی سہولت دستیاب نہیں۔ حتیٰ کے ونڈوز 8 پر چلنے والے ٹیبلٹس کے لیے بھی نہیں!
اگر آپ ونڈوز استعمال کرتے ہیں اور خدانخواستہ کبھی آپ کا لیپ ٹاپ چوری یا گم ہو جائے اور آپ اس کا سراغ لگانا چاہیں تو اس کے لیے تھرڈ پارٹی سافٹ ویئر انسٹال کرنا پڑتا ہے۔ اس کام کے لیے کئی پروگرام قیمتاً دستیاب ہیں تو چند بہترین مفت بھی موجود ہیں۔
زیادہ تر ایسے پروگرامز لیپ ٹاپ کے ساتھ ساتھ اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ کے لیے بھی دستیاب ہوتے ہیں۔

سراغ رساں پروگرام کیسے کام کرتے ہیں

ایک گم شدہ لیپ ٹاپ یا فون کا سراغ لگانے والی تمام سروسز کے کام کرنے کا طریقہ کار تقریباً ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ اس کے لیے ایک ٹریکنگ پروگرام انسٹال کرنا پڑتا ہے، پھر اس سروس کا ایک اکاؤنٹ بنانا پڑتا ہے تاکہ ڈیوائس کی گمشدگی کے بعد آپ ان کی ویب سائٹ پر اپنے اکاؤنٹ میں لاگ اِن کر کے ڈیوائس کا مقام جان سکیں اور اسے ریموٹلی کنٹرول کر سکیں۔
ایک بات یاد رکھیں کہ اسمارٹ فونز وغیرہ کے مقابلے میں لیپ ٹاپ کا سراغ لگانا قدرے مشکل کام ہے۔ کیونکہ اسمارٹ فون کے زیادہ امکان ہوتے ہیں کہ وہ موبائل ڈیٹا یا وائی فائی کے ذریعے انٹرنیٹ سے ضرور جڑے گا، اس طرح وہ انسٹال شدہ سراغ رساں پروگرام کے سرور پر رپورٹ بھیجے گا جس سے اس کے مقام کاتعین ہو سکتا ہے۔ جبکہ لیپ ٹاپ کے بارے میں تو یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کب آن ہو گا۔ آن ہو جائے تو کب اس پر انٹرنیٹ چلایا جائے گا۔ اگر اس پر انٹرنیٹ نہ چلایا گیا تو اس کا سراغ لگانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ اگرچہ یہ پروگرام صارف کو ذاتی نقصان سے بچنے کے چند اضافی فیچرز ضرور دیتے ہیں لیکن پھر بھی ایک فون کے مقابلے میں لیپ ٹاپ کا سراغ لگانا کافی مشکل کام ہے۔

سراغ رساں پروگرام کے فوائد

اگرچہ ہمارے ہاں چوری شدہ لیپ ٹاپ یا ڈیوائس کا واپس ملنا تقریباً ناممکن سی بات ہے لیکن پھر بھی کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔ اگر آپ ڈیوائس کے درست مقام سے آگاہ ہو جائیں تو کافی کچھ کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ سراغ رساں پروگرام آپ کو صرف مقام ہی نہیں اور بھی کافی معلومات دیتے ہیں جیسے کہ ویب کیم یا ڈیوائس کے کیمرے سے تصاویر، ڈیسک ٹاپ کا اسکرین شاٹ، ویب براؤزنگ تفصیلات، ڈیوائس پر ٹائپ کی گئی تمام کیز۔اگر فون کی بات کی جائے تو ان پروگرامز میں کال لاگنگ اور ٹیکسٹ لاگنگ جیسے اہم فیچرز موجود ہوتے ہیں۔
اس حوالے سے مفت سروسز میں محدود فیچرز ہوتے ہیں جو کہ ایک عام صارف کے لیے کافی ہیں لیکن اگر قیمتاً دستیاب ورژن کو استعمال کیا جائے تو کئی ایڈوانس فیچرز ملتے ہیں جیسے کہ لیپ ٹاپ میں سے ریموٹلی فائلز ڈیلیٹ کرنے کی سہولت وغیرہ۔ اس کے علاوہ یہ ورژنز بالکل خفیہ موڈ میں بیک گراؤنڈ میں رہتے ہوئے کام کرتے ہیں جن سے ڈیوائس استعمال کرنے والا بالکل لاعلم رہتا ہے۔

پرے (Prey)

http://preyproject.com
پرے کی جانب سے ایک ٹریکنگ سافٹ ویئر ونڈوز، میک اور لینکس کے لیے مفت دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ پرے ایپلی کیشن اینڈروئیڈ اور آئی او ایس کے لیے بھی موجود ہے۔ یعنی ایک ہی سروس آپ اپنے لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیوائسز کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
اس سروس کے پروفیشنل پلانز بھی موجود ہیں جو کہ قیمتاً دستیاب ہیں۔ لیکن ایک عام صارف کے لیے لیپ ٹاپ یا ڈیوائس کا سراغ لگانے کے لیے صرف ٹریکنگ سروس کافی ہے جو کہ مفت ورژن میں موجود ہے۔ مفت اکاؤنٹ میں تین ڈیوائسز کنفیگر کی جا سکتی ہیں۔

پرے اسمارٹ فون ایپلی کیشن

اسمارٹ فون کو چوروں کے شر سے محفوظ رکھنے کے لیے ’’پرے‘‘ سب سے بہترین اور مکمل ایپلی کیشن مانی جاتی ہے۔ اس بات کا ثبوت آپ ایپ اسٹور میں اس کے صارفین کی تعداد سے بھی لگا سکتے ہیں۔
اس ایپلی کیشن کی انسٹالیشن کے بعد فون یا ٹیبلٹ کو ریموٹلی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ درج فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں:
جیولوکیشن کی مدد سے نقشے پر فون کے مقام سے آگاہ ہوا جا سکتا ہے۔
فون کے فرنٹ اور بیک دونوں کیمروں سے تصاویر بنائی جا سکتی ہیں۔
ڈیوائس کو کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ سے بچانے کے لیے لاک کیا جا سکتا ہے۔
فون کے سائلنٹ پر ہونے کے باوجود ایک تیز الارم بجایا جا سکتا ہے۔
فون اسکرین پر الرٹ میسج دکھایاجا سکتا ہے۔
ڈیوائس پر استعمال ہونے والے نیٹ ورک کی معلومات حاصل کی جا سکتی ہے۔

پرے سافٹ ویئر

اب بات کرتے ہیں لیپ ٹاپ کی۔ پرے پروگرام ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے اس کی ویب سائٹ پر جائیں اور اپنے آپریٹنگ سسٹم کے اعتبار سے اسے ڈاؤن لوڈ کر لیں۔ ونڈوز کے لیے دستیاب پروگرام کا سائز 5.5 ایم بی ہے۔ اس کے لیے کم از کم درکار آپریٹنگ سسٹم ونڈوز ایکس پی ہے۔
اس کی انسٹالیشن صرف چند کلکس کی متقاضی ہے۔پرے دوسروں کی دسترس سے محفوظ رکھنے کے لیے کسٹم لوکیشن پر انسٹال کیا جاتا ہے۔ آپ اسے جس ڈرائیو یا فولڈر میں چاہیں انسٹال کر سکتے ہیں۔
Prey01
انسٹالیشن کے دوران ایک آپشن پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ جہاں پوچھا جاتا ہے کہ کیا آپ پرے کو کھولنے کے لیے شارٹ کٹس بنانا چاہتے ہیں؟
یہاں آخر میں موجود آپشن Do not create shortcuts کے ساتھ موجود باکس میں چیک لگانے سے آپ اس پروگرام تک کسی اور کا پہنچنا مشکل بنا سکتے ہیں۔ اس طرح اگر کسی کو اس طرح کے سراغ رساں پروگرامز کے بارے میں پتا بھی ہو گا تو اس کا پرے تک پہنچنا کچھ مشکل ہو جائے گا۔
Prey02
جس فولڈر میں اسے انسٹال کیا جائے وہاں آپ دیکھیں تو آپ خود نہیں پہچان پائیں گے کہ یہ پروگرام انسٹال ہوا ہے۔ کیونکہ یہاں سامنے ایسی کوئی فائلز موجود نہیں ہوتیں جس سے کوئی اس کے بارے میں اندازہ کر سکے۔
اس کا موجودہ ورژن 0.6.4 ہے۔ اس کی انسٹالیشن کے بعد جب پرے کی ویب سائٹ پر اپنے سسٹم کی رپورٹس دیکھنے کے لیے جائیں تو یہ تازہ ورژن انسٹال کرنے کا کہتا ہے۔ تازہ ورژن فی الحال بے ٹا ہے لیکن آپ کو انسٹال کرنا ہو گا جو کہ ورژن 1.0.8 ہے اور اس کا سائز 5.7 ایم بی ہے۔ یہ ورژن ڈاؤن لوڈ کر کے انسٹال کریں تو یہ پہلے موجود ورژن کو اپ گریڈ کر دیتا ہے۔
انسٹالیشن مکمل ہوتے ہی نیا پرے یوزر اکاؤنٹ بنانے کا کہا جاتا ہے۔ قوی امید ہے کہ آپ کے پاس پہلے سے اس کا اکاؤنٹ نہیں ہو گا اس لیے New user کے ریڈیو بٹن پر چیک لگاتے ہوئے Next کے بٹن پر کلک کر دیں۔
Prey03
اگر آپ کو اکاؤنٹ بنانے میں کوئی مسئلہ ہو تو اس کی ویب سائٹ پر جا کر بھی مفت اکاؤنٹ بنایا جا سکتا ہے۔
Prey04
اکاؤنٹ بنانے کے بعد جیسے ہی پرے میں لاگ اِن کریں یہ فوراً کام کرنا شروع کر دیتا ہے۔ پرے بطور ونڈوز سروس چلتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بیک گراؤنڈ میں چلتا ہے، ٹاسک بار یا نوٹی فکیشن ایریا میں اس کا کوئی آئی کن موجود نہیں ہوتا کہ جس سے معلوم ہو کہ یہ چل رہا ہے۔
اگر آپ اسے کنفیگر کرنا چاہیں اس کی انسٹالیشن ڈائریکٹری میں پلیٹ فارم فولڈر کے اندر موجود ونڈوز کے فولڈر میں آ کر prey-config.exe فائل کو چلائیں۔
Options for Execution کے آپشن میں آ کر رپورٹس اور ایکشنز کی فریکوئنسی سیٹ کی جا سکتی ہے کہ لیپ ٹاپ گم ہو جائے تو ہر کتنے دورانیے کے بعد یہ سرور کو رپورٹ کرے۔
اس کے علاوہ آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں کہ پرے کو بطور ونڈوز سروس چلنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس طرح یہ کمپیوٹر کے چلتے ہی خود بخود چل جاتا ہے اور اسے روکنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

گم شدہ لیپ ٹاپ ٹریک کریں

پرے کی انسٹالیشن و کنفگریشن مکمل ہو جانے کے بعد اب مرحلہ آتا ہے کہ ایک گم شدہ لیپ ٹاپ کو اس کی مدد سے کیسے ٹریک کریں۔
اس کام کے لیے پرے پروجیکٹ کی ویب سائٹ پر جا کر لاگ اِن ہو جائیں۔
panel.preyproject.com
لاگ اِن ہونے کے لیے وہی تفصیلات استعمال کریں جو آپ نے پرے کو انسٹال کرنے کے بعد نیا اکاؤنٹ بنا کر حاصل کی تھیں۔
لاگ ان ہونے کے بعد آپ دیکھیں گے کہ لیپ ٹاپ یا دیگر ڈیوائسز جو آپ نے اس میں شامل کی تھیں وہ یہاں موجود ہوں گی۔
Prey05
اگر آپ کا لیپ ٹاپ گم ہو چکا ہے تو پرے کنٹرول پینل میں موجود اس کے نام پر کلک کریں۔ اگلے پیج پر Locate Device اور My device is missing کے بٹنز موجود ہیں۔ اگر آپ ڈیوائس کے مقام سے آگاہ ہونا چاہتے ہیں تو پہلے بٹن پر کلک کریں۔ اگر آپ کا لیپ ٹاپ گم یا چوری ہو چکا ہے تو ’’مائی ڈیوائس از مسنگ‘‘ کا آپشن استعمال کریں۔
Prey06
یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ پرے صرف ڈیوائس کے گم شدہ ہونے کی صورت میں اس کے مقام کو ٹریک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یعنی یہ ہر وقت لیپ ٹاپ یا ڈیوائس کو ٹریک نہیں کر رہا ہوتا۔ جب آپ اسے گم شدہ یعنی Missing رپورٹ کرتے ہیں تبھی یہ اس کا سراغ لگانے کی کوششیں شروع کر دیتا ہے۔
اس کے علاوہ بھی پرے کے ذریعے چند ایکشنز استعمال کیے جا سکتے ہیں جیسے کہ الارم، میسج اور لاک۔
Prey07

الارم

الارم اس صورت میں کارآمد ہے جب آپ کی ڈیوائس یا لیپ ٹاپ قریب ہی کہیں موجود ہو۔ اس طرح بجنے والا الارم سن کر آپ اس کے مقام سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔ فون کے مقابلے میں لیپ ٹاپ کو الارم بھیجنا زیادہ کارآمد نہیں ہوتا کیونکہ الارم بجانے کی ہدایت موصول کرنے کے لیے لیپ ٹاپ کا آن اور انٹرنیٹ سے جُڑا ہونا ضروری ہے۔
اگر الارم کا آپشن استعمال کریں تو یہ لیپ ٹاپ اسپیکرز کی پوری قوت سے ایک ساؤنڈ تیس سیکنڈ کے لیے بجاتا ہے۔ الارم میں مختلف ساؤنڈز جیسے کہ سائرن وغیرہ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
Prey08

پیغام بھیجیں

Send message کے آپشن پر کلک کر کے آپ کوئی بھی پیغام بھیج سکتے ہیں جیسے کہ اپنا ای میل ایڈریس یا فون نمبر کہ اس کے ذریعے آپ سے رابطہ کر کے ڈیوائس واپس پہنچائی جا سکے۔
Prey09
پیغام محفوظ کر لیا جاتا ہے اور لیپ ٹاپ کے انٹرنیٹ سے جڑتے ہی پرے آپ کا پیغام کمپیوٹر استعمال کرنے والے کو پہنچا دیتا ہے۔
Prey09-2

لاک

ڈیوائس کو لاک کرنے کا آپشن بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لاک کرنے کا حکم صادر کرتے ہوئے آپ کو ایک پاس ورڈ بھی دینا ہوتا ہے کہ جب تک یہ پاس ورڈ نہ دیا جائے سسٹم اَن لاک نہ ہو۔
Prey10
لاک کرنے کا آپشن بہت اچھے طریقے سے کام کرتا ہے۔ جیسے ہی سسٹم پر موجود پرے کو سسٹم لاک کرنے کا حکم ملتا ہے سسٹم لاک ہو جاتا ہے۔ ایک کالی اسکرین سامنے آجاتی ہے جس پر پاس ورڈ ٹائپ کرنے کی فیلڈ موجود ہوتی ہے۔ جب تک درست پاس ورڈ نہ ٹائپ کریں سسٹم اَن لاک نہیں ہوتا۔
یہ لاک کافی مضبوط ہوتا ہے یعنی ٹاسک منیجر یا کنٹرول آلٹر ڈیلیٹ وغیرہ سے اس کا توڑ نہیں کیا جا سکتا۔
Prey10-2

ڈیوائس کی تلاش

لیپ ٹاپ کو گم شدہ قرار یعنی My device is missing کے بٹن پر کلک کرتے ہی پرے رپورٹس جمع کرنے کا کام شروع کر دیتا ہے۔ جیسے ہی لیپ ٹاپ پر انٹرنیٹ چلے گا، پرے سافٹ ویئر اپنے سرور سے رابطہ کر کے اپنے لیے دستیاب ہدایات کے بارے میں جانے گا۔ جب اسے پیغام ملے گا کہ لیپ ٹاپ کو گم شدہ قرار دے دیا گیا ہے یہ فوراً رپورٹ بنانے کا کام شروع کر دے گا۔
آپ کو ایک دفعہ پھر بتا دیں کہ رپورٹ اسی صورت میں موصول ہو گی جب لیپ ٹاپ آن ہو گا، اس پر انٹرنیٹ چل رہا ہو گا اور پرے بدستور اس پر انسٹال ہو گا۔
پرے کے خریدے گئے ورژن میں یہ سہولت دستیاب ہے کہ جب چاہیں رپورٹ حاصل کی جا سکتی ہے جبکہ مفت ورژن میں رپورٹ کے لیے درخواست کی جاتی ہے جس کے موصول ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، لیکن رپورٹ ملتی ضرور ہے اس لیے مفت ورژن استعمال کرتے ہوئے بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
جیسے ہی رپورٹ موصول ہو گی آپ کو بذریعہ ای میل آگاہ کر دیا جائے گا۔ ای میل میں رپورٹ کا لنک بھی موجود ہو گا۔ اس کے علاوہ آپ کے پرے اکاؤنٹ میں الرٹ موجود ہو گا کہ رپورٹ آ چکی ہے۔ رپورٹ میں آپ کی ہدایت کے مطابق معلومات موجود ہو گی مثلاً لیپ ٹاپ کا جیوگرافک مقام، نیٹ ورک اسٹیٹس، آئی پی ایڈریس، کمپیوٹر کے ڈیسک ٹاپ کا اسکرین شاٹ اور ویب کیم کے ذریعے کمپیوٹر استعمال کرنے والے کی تصویر۔
Prey11-2
آپ کے مقرر کردہ دورانیے جیسے کہ ہر پانچ منٹ بعد ایک رپورٹ بنانے کا کام شروع ہو جائے گا اور انٹرنیٹ دستیاب ہونے کی صورت میں آپ کو فوراً رپورٹس مل جائیں گی۔ ان رپورٹس میں سب سے دلچسپ چیز ڈیسک ٹاپ کا اسکرین شاٹ اور لیپ ٹاپ استعمال کرنے والے کی ویب کیم سے بننے والی تصویریں ہوتی ہیں۔ جبکہ باقی معلومات بھی بہت اہم ہوتی ہے۔
پرے اسی پر بس نہیں کرتا بلکہ جب تک آپ رپورٹس کو بند نہیں کرتے یہ مسلسل ڈیوائس سے رپورٹس حاصل کرتا رہتا ہے جو کہ ڈیوائس تک پہنچنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
ایک گم شدہ لیپ ٹاپ کا سراغ حاصل کرنے کے لیے یہ معلومات کافی حد تک مددگار ہو سکتی ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ آپ تھوڑی سی تگ و دو کے بعد لیپ ٹاپ کا نہ صرف سراغ لگانے کے قابل ہو جائیں گے بلکہ اسے واپس بھی حاصل کر سکیں گے۔
جب آپ کی گمشدہ ڈیوائس بازیاب ہو جائے تو Device Recovered کے بٹن پر کلک کر کے پرے کو مزید رپورٹس جمع کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔
اگر آپ لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہیں تو یقیناً یہ آپ کے لیے ایک قیمتی اثاثے سے کم نہیں ہو گا۔ اس لیے اس کی حفاظت کے لیے ایسے سکیوریٹی پروگرامز ضرور استعمال کریں۔ یہاں LoJack for Laptops کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔ اگرچہ یہ ایک قیمتاً دستیاب پروگرام ہے لیکن اسے خریدنا کسی بھی طرح گھاٹے کا سودا نہیں کیونکہ یہ لیپ ٹاپ کی بایوس میں شامل ہو جاتا ہے۔ اس طرح اسے ڈیلیٹ کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فونز کے لیے یہ پروگرام 15ڈالر سالانہ کے عوض دستیاب ہے۔ مزید تفصیل کے لیے اس کی ویب سائٹ ملاحظہ کیجیے:
http://lojack.absolute.com

اینڈروئیڈ پر اپنی کالز اور ایس ایم ایس پوشیدہ رکھیں

اینڈروئیڈ پر اپنی کالز اور ایس ایم ایس پوشیدہ رکھیں
Private SMS Call - Hide Text (1)اپنی پرائیویسی کی حفاظت کے لیے فون لاگ اور مکمل ایس ایم ایس ان باکس پر پاس ورڈ لگا دینا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ صرف اہم نمبرز کو خفیہ نمبرز کی فہرست میں ڈال دیا جائے۔ تاکہ ان نمبرز سے آنے والی کالز اور ایس ایم ایس فون کے عام لاگ اور ان باکس میں نہ جائیں۔
Private SMS & Call – Hide Textایپلی کیشن میں آپ ایسے فون نمبرز محفوظ کر سکتے ہیں جن کا کوئی کال یا ایس ایم ایس ریکارڈ آپ اپنے فون میں چھوڑنا پسند نہیں کرتے۔ حتیٰ کہ اپنے ذاتی نمبرز کو آپ فون بک سے بھی غائب کر سکتے ہیں۔ ان نمبرز سے آنے والی تمام کالز یا ان نمبرز پر کی جانے والی تمام کالز کا لاگ خود بخود ختم کر دیا جائے گا۔ اس طرح اگر کوئی آپ کا فون دیکھے بھی تو اسے کچھ نہیں ملے گا۔
اس ایپلی کیشن میں اپنے خفیہ نمبرز محفوظ کرنے کے بعد ان نمبرز پر کی جانے والی کالز یا ایس ایم ایس ریکارڈ اسی ایپلی کیشن میں منتقل ہو جاتا ہے، یعنی اسے آپ کے علاوہ کوئی نہیں دیکھ سکتا۔
چونکہ اس ایپلی کیشن کا کہیں کوئی آئی کن بھی نظر نہیں آتا اور اسے سامنے لانے کے لیے آپ کو ایک کوڈ ٹائپ کرنا پڑتا ہے اس لیے اس تک کسی کا پہنچنا ممکن نہیں رہتا۔ اسے سامنے لانے کے لیے آپ کو پاس ورڈ ٹائپ کرنا ہوتا ہے جیسے کہ ابتدائی پاس ورڈ ##1234 ہوتا ہے، جسے آپ بدل بھی سکتے ہیں۔
یہ ایپلی کیشن صرف اینڈروئیڈ صارفین کے لیے دستیاب ہے۔

انسٹال کریں

انٹرنیٹ کے ذریعے پیسے کیسے کمائیں

انٹرنیٹ کے ذریعے پیسے کیسے کمائیں
یہ سوال اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا واقعی انٹرنیٹ سے پیسے کمانا ممکن ہے؟ یا پھر یہ ایک فراڈ ہے؟اس سوال کا جواب اس بات منحصر ہے کہ آپ انٹرنیٹ سے پیسے کمانا کیسے چاہتے ہیں۔ اگر تو آپ یہ چاہتے ہیںکہ بغیر محنت کے چند گھنٹوں میں آپ سینکڑوں ڈالر کما لیں گے تو یقینا ایسا ممکن نہیں ہے۔
انٹرنیٹ پر برائوزنگ کرتے ہوئے، فیس بک پر، ٹوئٹر پر، حتیٰ کہ اخبارات میں بھی آپ کو ایسے اشتہارات نظر آتے ہوں گے کہ گھر بیٹھے چند گھنٹے کام کریں اور ہزاروں روپے کمائیں۔ پاکستان کے خراب معاشی حالات میں ایسے اشتہارات انتہائی خوش کن محسوس ہوتے ہیں اور لوگ ان کے جھانسے میں بہت آسانی سے آجاتے ہیں۔
یہ مضمون ہم نے ایسے ہی تمام سوالات جو انٹرنیٹ سے کمائی کے حوالے سے آپ کے ذہن میں ہوسکتے ہیں، کے مدلل جوابات دینے کے لئے تحریر کیا ہے ۔

انٹرنیٹ سے کمائی ایک فراڈ ہے یاگر؟

انٹرنیٹ سے بغیر محنت پیسے کمانا ناممکن ہے۔ کوئی ویب سائٹ یا کوئی شخص آپ کو مفت میں پیسے نہیں دے گی۔ اگر کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ کسی لنک پر دن میں فلاں تعداد میں کلک کرنے سے آپ اتنے پیسے کما لیں گے یا فلاں ویب سائٹ کا لنک شیئر کرنے سے آپ کو پیسے ملیں گے، تو وہ آپ سے جھوٹ بول رہا ہے۔ اس کام کا مقصد کسی ویب سائٹ یا پراڈکٹ کی مشہوری تو ہوسکتا ہے، لیکن کمائی نہیں۔ ساتھ ہی اخبار میں نظر آنے والے ان انسٹی ٹیوٹس کے اشتہارات جن میں گھر بیٹھے کمائی کے گر سکھانے کے کورس کرائے جاتے ہیں، دراصل فراڈ ہی ہیں۔ ان جعلی اداروں میں آپ صرف کورس فیس کے نام پر صرف اپنا پیسہ ضائع کرتے ہیں، جب کہ حاصل کچھ نہیں ہوتا۔ فائدہ صرف ان ادارے کے چلانے والوں کو ہوتا ہے جو با آسانی اچھی خاصی رقم بٹور لیتے ہیں۔
ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ ان اداروں میں سب سے زیادہ فراڈ ’’گوگل ایڈ سینس‘‘ کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت گوگل ایڈ سینس لاکھوں لوگوں کی کمائی کا ذریعہ ہے۔ لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو کوئی فراڈ نہیں کررہے اور نہ ہی کوئی غیر قانونی کام۔ بلکہ اپنی محنت اور کوشش سے ایڈ سینس سے پیسے کما رہے ہیں۔ لیکن ہمارے یہاں چلنے والے جعلی ادارے گوگل ایڈ سینس کو آسان کمائی کا ذریعہ بتا کر لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں۔ ان اداروں کا طریقہ کار کچھ یوں ہوتا ہے کہ یہ آپ کو پہلے پہل تو کنفرم ایڈ سینس اکائونٹ فروخت کرکے پیسے وصول کرتے ہیں۔ اگرچہ آپ خود رجسٹریشن کروا کر ایک کنفرم اکائونٹ حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن یہاں بھی لوگوں کی سستی آڑے آجاتی ہے اور وہ جلدی کے چکر میں انہی لوگوں سے کنفرم اکاؤنٹ خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ پھر ویب سائٹ بنانے کا طریقہ سکھا کر اس کی فیس وصول کی جاتی ہے اور اگر کوئی یہ نہ سیکھنا چاہے، تو اسے ویب سائٹ بنا کر دینے کے پیسے لیئے جاتے ہیں۔ یہ ویب سائٹس اکثر فری ہوسٹنگ سروس دینے والی ویب سائٹس پر ہوسٹ کی جاتی ہیں۔ کچھ انسٹی ٹیوٹ ہوسٹنگ اور ڈومین بھی فروخت کرتے ہیں اور معصوم لوگوں سے مزید پیسے اینٹھتے ہیں۔ اس طرح صارف کو کافی پیسے خرچ کرنے کے بعد ایک ایڈ سینس اکائونٹ اور ویب سائٹ ملتی ہے جس پر لگے ایڈ سینس اشتہارات پر اسے دن رات کلک کرنا ہوتا ہے اور یار دوستوں سے بھی کلک کروانے پڑتے ہیں۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چند دنوں یا ہفتوں بعد گوگل کی جانب سے صارف کا گوگل ایڈ سینس اکائونٹ بلاک کردیا جاتا ہے کیونکہ خود اپنی ویب سائٹ پر لگے اشتہارات پر کلک کرنا یا کروانا نا قابل قبول ہے۔ اپنی ذات کو دھوکا دینا بہت آسان ہے لیکن گوگل کو نہیں۔ گوگل ایڈ سینس کی کامیابی کا راز ہی اس کا فراڈ پکڑنے کا نظام ہے جو بہت بڑی آسانی سے خود کیئے جانے والے کلک شناخت کرلیتا ہے۔ ایک با ربلاک کیا جانے والا اکائونٹ شاید ہی کبھی دوبار فعال کیا جاتا ہے۔ اس طرح صارف کے لئے گوگل ایڈ سینس شجر ممنوعہ بن جاتا ہے اور انٹرنیٹ سے کمائی کا یہ باب ہمیشہ کے لئے بند ہوجاتا ہے۔

انٹرنیٹ سے کمائی ممکن ہے

بالکل، انٹرنیٹ سے پیسے کمانا یا انٹرنیٹ پر نوکری یا کاروبار کرنا ایک حقیقت ہے اور یہ نہ صرف آپ کے لئے ایک باعزت کمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے بلکہ عام نوکری یا کاروبار سے کئی گناہ زیادہ کماکر بھی دے سکتا ہے۔انٹرنیٹ نے دنیا کو آپ کے کمپیوٹر میں سمیٹ دیا ہے جس کا فائدہ اٹھانا آپ کے اپنے ذہن پر منحصر ہے۔ انٹرنیٹ سے کروڑوں لوگوں کا کاروبار وابستہ ہے اور وہ اس سے براہ راست یا بالواسطہ کما رہے ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ ہر کام کی طرح یہ بھی محنت طلب ہے اور آپ کی بھرپور توجہ چاہتا ہے۔ ہم یہاں امکانات لکھ رہے ہیں جو آپ کو انٹرنیٹ سے کمانے میں مدد کریں گے لیکن یہ فیصلہ آپ نے اپنی ذات کا سامنے رکھ کر خود کرنا ہے کہ آپ کو کون سا کام کرنا چاہئے۔

ایڈ سینس سے پیسے کمائیں

آپ نے اکثر نوٹس کیا ہوگا کہ جب آپ کوئی لفظ لکھ کر گوگل پر تلاش کرتے ہیں تو یہ اس لفظ سے متعلق اشتہارات بھی اسکرین کے دائیں جانب اور نتائج سے اوپر دکھاتا ہے۔ یہ اشتہارات دکھانے کے لئے ان ویب سائٹ کے مالکان، گوگل کے پروگرام AdWords کے ذریعے گوگل کو پیسے دیتے ہیں۔ گوگل اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ان ویب سائٹ مالکان کے اشتہارات اپنے سرچ رزلٹس کے صفحات پر دکھا کر کماتا ہے۔گوگل اس کمائی میں صرف اکیلا حصے دار نہیں۔ آپ بھی گوگل ایڈ سینس کے ذریعے یہ اشتہارات اپنی ویب سائٹ پر دکھا کر اپنا حصہ وصول کرسکتے ہیں۔
گوگل نے یہ پروگرام 18جون 2003ء کو شروع کیا تھا اور گوگل ایڈسینس بلا شبہ انٹرنیٹ سے پیسے کمانے کا اس وقت سب سے زیادہ کارآمد طریقہ ہے۔ اگر ایڈ سینس کا صحیح طرح سے استعمال کیا جائے تو یہ آپ کی مستقل آمدنی کا ذریعہ بن سکتا ہے لیکن شرط ایمانداری کی ہے کیونکہ گوگل اس وقت تک تنگ نہیں کرتا جب تک اسے تنگ کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔
ایڈ سینس کے کام کرنے کا طریقہ بھی سادہ ہے۔ آپ کو ایک ویب سائٹ بنانی ہے اور اسے قابل قبول طریقوں جیسے سرچ انجن آپٹمائزیشن کے ذریعے زیادہ سے زیادہ صارفین تک پہنچانا ہے تاکہ وہ آپ کی ویب سائٹ کا دورہ کریں اور گوگل ایڈ سینس کے دکھائے ہوئے اشتہارات پر کلک کریں۔ ہم تمام مراحل یہاں مرحلہ وار تحریر کررہے ہیں۔
٭ … گوگل ایڈ سینس پر رجسٹریشن کروانے سے پہلے آپ کو اپنی ایک ویب سائٹ تیار کرنی ہے۔ یہ ویب سائٹ کسی بھی دلچسپ موضوع کے حوالے سے ہوسکتی ہے۔ ویب سائٹ کی زبان بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ انگلش یا یورپ میں بولی جانے والی زبانوں کے علاوہ زبانوں میں بنائی گئی ویب سائٹس گوگل ایڈ سینس سے کچھ خاص نہیں کما پاتیں۔ اس لئے ویب سائٹ کی زبان کا فیصلہ بھی سوچ سمجھ کر کریں۔ ویب سائٹ جاذب نظر اور کارآمد ہونی چاہئے تاکہ صارف اس ویب سائٹ پر زیادہ سے زیادہ آئیں۔ یاد رہے کہ کسی دوسری ویب سائٹ سے مواد چوری کرکے آپ گوگل کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ اس لئے ویب سائٹ پر موجود مواد اصل اور انوکھا ہونا چاہئے۔
اگر آپ کے لئے خود ویب سائٹ بنانا ممکن نہیں لیکن ایک اچھی ویب سائٹ کا خاکہ آپ کے ذہن میں ہے توآپ پاکستان میں موجود سینکڑوں ویب سائٹس بنانے والے چھوٹے بڑے سافٹ ویئر ہائوسز یا پھر کسی اچھے ڈیزائنر /ڈیویلپر سے ویب سائٹ بنوا سکتے ہیں۔ اس میں آپ کو یقینا پیسے خرچ کرنے ہوں گے لیکن یہ بھی تو سوچیں کہ شاید ہی کوئی ایسا کاروبار ہو جس میں ابتدائی سرمایہ کاری نہ کرنی پڑتی ہو۔
آج کل صرف ویب سائٹس ہی نہیں بلکہ بلاگز (Blogs) بھی گوگل ایڈ سینس کے لئے بڑی تعداد میں استعمال ہوتے ہیں۔ اگر آپ اچھا لکھ سکتے ہیں اور کسی خاص موضوع پر ویب سائٹ بنانے کے جھنجٹ سے بھی چھٹکارا چاہتے ہیں تو پھر بلاگ ہی بنا لیں۔ یہ بلاگ wordpress.com پر بھی ہوسکتا ہے یا پھر Blogger.com پر بھی۔ نیز، اپنی ہوسٹنگ خرید کر بھی ورڈ پریس وغیرہ انسٹال کرکے بلاگ بنایا جاسکتا ہے۔
(بلاگنگ کیا ہے اور مفت بلاگ کیسے بنائیں)
ویب سائٹ کی تکمیل کے بعد کچھ عرصہ اس کی تشہیر بھی ضروری ہے تاکہ وزیٹرز کی تعداد بڑھائی جاسکے۔ آپ یہ کام فیس بک یا ٹوئٹر کی مدد سے کر سکتے ہیں۔ جہاں موجود آپ کے دوست اور Followers ویب سائٹ کی ٹریفک بڑھانے میں بہت معاون ثابت ہوں گے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ویب سائٹ بنانے کے کم از کم چھ ماہ تک آپ کو گوگل ایڈ سینس پر رجسٹریشن کے لئے درخواست جمع نہیں کروانی چاہیے۔ گوگل کا پاکستانی ویب ماسٹرز کی درخواست کو رد کردینا معمول کی بات ہے۔ اس لئے بہتر ہے کہ رد ہونے سے بچنے کے لئے ویب سائٹ کو پہلے اچھی طرح تیار کرلیں۔
٭…دوسرے مرحلے میں آپ نے گوگل ایڈ سینس پر رجسٹریشن کروانی ہے۔ رجسٹریشن کے دوران پوچھی گئی معلومات کی درست فراہمی ہی آپ کے مفاد میں ہے۔ رجسٹریشن پوری ہونے کے بعد آپ کا اکائونٹ فوراً فعال نہیں کردیا جاتا بلکہ آپ کی درخواست جانچ پڑتال کے لئے متعلقہ فرد یا پھر کمپیوٹر پروگرام کو بھیج دی جاتی ہے جو اس بات کا تجزیہ کرتا ہے کہ آیا آپ کی ویب سائٹ گوگل ایڈ سینس کے اشتہارات چلانے کے لائق ہے کہ نہیں۔ اگر آپ کی ویب سائٹ مکمل ہے اور ایڈ سینس کے قواعد کے مطابق ہے تو پھر آپ کی درخواست ضرور قبول کرلی جائے گی۔ اگر درخواست ناقابل قبول ہو تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ آپ اپنی ویب سائٹ کو مزید بہتر بنائیں اور دوبارہ درخواست دے دیں۔
٭…درخواست کی قبولی کے بعد آپ ایڈ سینس کے اشتہارات کا کوڈ حاصل کرسکتے ہیں۔ اپنی مرضی و منشا اور ویب سائٹ کی ضرورت کے مطابق اشتہارات کا سائز منتخب کریں اور ویب سائٹ پر ایسی جگہ لگائیں جہاں یہ ویب سائٹ پر آنے والوں کی نظروں کے سامنے بھی رہیں اور ویب سائٹ کا حلیہ بھی خراب نہ کریں۔ عموماً اشتہارات دائیں طرف یا پھر ویب سائٹ کے بینر کے قریب لگائیں جاتے ہیں۔
٭… آپ کا کام یہیں ختم نہیں ہوجاتا۔ اب آپ کو اپنی ویب سائٹ اپ ڈیٹ رکھنی ہے تاکہ وزیٹرز کی تعداد کم نہ ہونے پائے۔ جتنا ٹریفک آپ کی ویب سائٹ پر آئے گا، آپ کی آمدنی میں اضافے کے امکانات بھی اسی تناسب سے زیادہ ہوں گے۔ اگر جیب اجازت دے تو گوگل ایڈ ورڈ کے ذریعے خود بھی اپنی ویب سائٹ کا اشتہار دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
یہ بات یاد رکھیں کہ ویب سائٹ بنا کر اسے گوگل ایڈ سینس سے قابل قدر کمائی کا ذریعہ بننے میں ضرور وقت لگتا ہے۔ یہ چند ماہ بھی ہوسکتے ہیں اور چند سال بھی۔ تمام تر انحصار آپ کی اپنی محنت اور لگن پر ہے۔ چند دنوں میں پیسوں کا ڈھیر نہیں لگ سکتا۔ نیز، یہ امید رکھنا کہ ہزاروں ڈالر ماہانہ آمدن شروع ہوجائے گی، بھی غیر معقول ہے۔ ایسے ویب سائٹ مالکان ضرور موجود ہیں، جو حقیقتاً ہزاروں ڈالر ماہانہ ایڈ سینس سے کما لیتے ہیں لیکن ان کی ویب سائٹس پر ٹریفک بھی لاکھوں کی تعداد میں ہوتا ہے۔ اگر آپ گوگل ایڈ سینس سے اپنی ویب سائٹ کے روز مرہ اخراجات نکال کر چند سو ڈالر کما لیتے ہیں تو یہ بہترین ہے۔
٭… گوگل ایڈ سینس سے کمائے گئے پیسے $100یا اس سے زائد ہوجانے پر منگوائے جاسکتے ہیں۔ سو ڈالر سے کم پیسے گوگل نہیں بھیجتا۔
یہ تو ذکر تھا گوگل ایڈ سینس کا، اب ہم آپ کو انٹرنیٹ سے کمائی کو ایک اور طریقہ بتاتے ہیں اور یہ طریقہ ہے فری لانسنگ (Freelancing)۔

فری لانسنگ

اگر آپ ویب ڈیویلپر ہیں، کوئی پروگرامنگ لینگویج جانتے ہیں، کسی اہم سافٹ ویئر پر مکمل عبور رکھتے ہیں، انگلش اچھی بول سکتے ہیں، ٹائپنگ بہت تیزی سے کرسکتے ہیں، ٹربل شوٹنگ کرسکتے ہیں، اکاوئنٹنگ اچھی جانتے ہیں، مضامین یا پریس ریلیز لکھ سکتے ہیں الغرض کسی بھی کام میں مہارت رکھتے ہیں تو آپ ’’ فری لانسنگ‘‘ کرسکتے ہیں۔
امریکی اور یورپی کمپنیاں یا فرد وہاں کے مقامی افراد کو کسی کام یا پروجیکٹ کے لئے نوکری پر رکھیں تو انہیں اس کی تنخواہ کے علاوہ کئی اخراجات برداشت کرنے ہوتے ہیں۔ کئی کمپنیاں تو ایسی بھی ہیں جن کے آفس برائے نام ہی ہوتے ہیں اور وہ کوئی فرد نوکری پر رکھنے کی متحمل نہیں ہوسکتیں۔ ایسے میں وہ کمپنیاں یا افراد سستے ممالک جیسے پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، چین اور فلپائن میں موجود آن لائن کام کرنے والے افراد کو وہ کام ’’آئوٹ سورس(Outsource)‘‘ کردیتے ہیں جو یہ کام دور بیٹھے ہی بہت احسن طریقے سے کر دیتے ہیں۔ اس طرح کام دینے والے کو بھی بچت ہوتی ہے اور کام کرنے والے کو بھی اپنے کام کا مقامی مارکیٹ کے مقابلے میں اچھا معاوضہ مل جاتا ہے۔
انٹرنیٹ اور کمپیوٹر میں ہونے والے ترقی اور تبدیلیوں نے آئوٹ سورسنگ کو ایک انڈسٹری کی شکل دے دی ہے اوراس وقت آئوٹ سورسنگ اور فری لانسنگ اربوں ڈالر کی  انڈسٹری بن چکا ہے۔ بھارت اور فلپائن کی سافٹ ویئر انڈسٹری میں کمائے جانے والے زرمبادلہ کاایک بڑا حصہ آئوٹ سورس کئے گئے کاموں سے آتا ہے۔
آئی بی ایم ہو یا انٹل، ڈیل ہو یا جنرل الیکٹرک، سب ہی اپنے اخراجات کم کرنے کے لئے مستقل ملازم رکھنے کے بجائے آئوٹ سورسنگ کو ترجیح دیتے ہیں۔ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو کہ سینکڑوں مشہور امریکی اور یورپی کمپنیوں کے کسٹمر سپورٹ سینٹر یا کال سینٹر بھارت، فلپائن ، پاکستان یا بنگلہ دیش میں موجود ہیں جو فی کال چند ڈالر یا معاہدے کے مطابق معاوضہ وصول کرتے ہیں اور ان کمپنیوں کے لئے لاکھوں ڈالر سالانہ بچاتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والے بیشتر سافٹ ویئرہاؤس  آئوٹ سورس کئے گئے کام ہی کرتے ہیں۔
آپ یقینا سوچ رہے ہوں گے کہ آپ کیسے سافٹ ویئر ہائوس یا کال سینٹر کھولیں گے۔ لیکن جناب فری لانسنگ کرنے کے لئے آپ کو صرف ایک کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور صلاحیت کی ضرورت ہے۔ نیز، جیسا کہ ہم نے پہلے کہا، آپ تقریباً ہر کام انٹرنیٹ پر کرسکتے ہیں لیکن زیادہ تر آئوٹ سورس کئے گئے کام کمپیوٹر سے متعلق ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان لوگوں کے لئے آن لائن کام تلاش کرنا نسبتاً زیادہ آسان ہے جو ویب ڈیویلپمنٹ ، گرافک ڈیزائننگ یا کمپیوٹر پروگرامنگ پر مہارت رکھتے ہیں۔
ہم یہاں چند ویب سائٹس کا ذکر کریں گے جہاں آئوٹ سورس کئے گئے پروجیکٹ حاصل کئے جاسکتے ہیں۔

وی ورکر۔ رینٹ اے کوڈر

http://www.vworker.com
(نوٹ: اس ویب کو اب فری لانسر نے خرید لیا ہے)
وی ورکر (vWorker) آئوٹ سورس پراجیکٹس کی سب سے پرانی اور مشہور مارکیٹ ویب سائٹ ہے۔ اس سے پہلے اس ویب سائٹ کا نام RentACoder تھا جسے پچھلے سال تبدیل کرکے وی ورکر( ورچوئل ورکر) کردیا گیا۔ اس ویب سائٹ پر رجسٹریشن مفت ہے جب کہ پروجیکٹ حاصل کرنے کے لئے Bidلگانے پر بھی کوئی فیس نہیں ہے۔ اس ویب سائٹ کے کام کرنے کا طریقہ کچھ یوں ہے کہ Employerیعنی وہ شخص جسے کچھ کام کروانا ہے، اپنے پروجیکٹ کی تفصیل وی ورکر پر جمع کرواتا ہے۔ آپ بطور ورچوئل ورکر اس پروجیکٹ پر بولی لگاتے ہیں کہ اتنے ڈالر میں آپ یہ کام کردیں گے۔ آپ کی لگائی ہوئی بولی صرف آپ اور پروجیکٹ کا مالک ہی دیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ کی لگائی ہوئی بولی مالک قبول کرلیتا ہے تو مالک بولی کی مالیت کے مطابق پیسے ویب سائٹ کے پاس جمع (Escrow) کروادیتا ہے۔ اب آپ پروجیکٹ کی تفصیل کے مطابق کام شروع کرتے ہیں اور اسے دی ہوئی ڈیڈ لائن کے اندر پورا کرتے ہیں۔ پروجیکٹ پورا ہونے کے بعد مالک اسے چیک کرتا ہے اور سب کام درست ہونے کی صورت میں آپ کے جمع کروائے ہوئے کام کو قبول کرلیتا ہے۔ کام کے قبول ہونے کے بعد وی ورکر آپ کے اکائونٹ میں پیسے جمع کردیتاہے جسے بعد میںمختلف طریقوں جیسے ویسٹرن یونین وغیرہ سے منگوا سکتے ہیں۔ شروع شروع میں آپ کو یہاں پروجیکٹ حاصل کرنے میں کافی تگ و دو کرنی پڑے گی کیوں کہ پہلے ہی لاکھوں لوگ یہاں کام کررہے ہیں۔ ان لاکھوں لوگوں میں سے آپ کی بولی کیوں منتخب کی جائے، یہ آپ نے خود ثابت کرنا ہے۔
یہاں آپ کو ہر طرح کے کام جیسے ٹائپنگ، لوگو ڈیزائننگ، پروگرامنگ، ویب سائٹ ڈیویلپمنٹ، ٹربل شوٹنگ مل جائیں گے۔ بہتر ہوگا کہ آپ ایک یا دو مخصوص طرز کے کاموں کی طرف اپنی توجہ مرکوز رکھیں اور انہی پروجیکٹس پر بولی لگائیں جنہیں آپ کو بخوبی انجام دے سکتے ہیں۔ ایسے پروجیکٹس جنھیں آپ پورا نہ کر پائیں نہ صرف یہ کہ آپ کی ریٹنگ برباد کرتے ہیں بلکہ بہت زیادہ خراب ریٹنگ کی صورت میں آپ کا اکائونٹ بھی ختم کردیا جاتا ہے جسے دوبارہ بنانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ اس لئے زیادہ آمدنی کی کوشش میں آپ کہیں اپنے اکائونٹ سے بھی ہاتھ نہ دھوبیٹھیں۔
اس ویب سائٹ کے حوالے سے بہت سی دوسری تفصیلات طوالت سے بچنے کے لئے  ہم یہاں بیان نہیں کررہے۔ اس لئے اس ویب سائٹ پر موجود مختلف رہنماء مضامین پڑھیں اور سمجھ کر عمل کریں۔ شروع میں آپ کو کافی مشکلات درپیش آئیں گی مگر آپ کی ہمت اور لگن آپ کو یہاں ایک کامیاب اور منافع بخش کاروبار کا مالک بنا دے گی۔

او ڈیسک

http://www.odesk.com
یہ ویب سائٹ 2003ء میں بنائی گئی تھی اور ہماری ذاتی تجربے کے مطابق یہ پاکستانی سافٹ ویئر ہائوسز کی پسندیدہ ترین ویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ اکثر سافٹ ویئر  ہاؤس آئوٹ سورس کئے گئے کام یہیں سے حاصل کرتے ہیں۔ Alexaکے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویب سائٹس میں اس کا شمار 60واں ہے۔
وی ورکر اگرچہ فری لانسسنگ کے معاملے میں بانی کا درجہ رکھتی ہے لیکن اس پر پروجیکٹس کی مالیت او ڈیسک کے مقابلے میں خاصی کم ہوتی ہے۔ ایک ہزار ڈالر سے زائد مالیت کے پروجیکٹس وی ورکر پر کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں، اس کے مقابلے میں یہ او ڈیسک پر بہت عام ہیں۔ ساتھ ہی او ڈیسک پر ملنے والی اکثر پروجیکٹس لمبے عرصے کیلئے ہوتے ہیں۔ اس لئے ایک بڑا پروجیکٹ اگلے کئی ماہ یا سال تک آپ کیلئے مستقل آمدنی کا ذریعہ ثابت ہوسکتا ہے۔ او ڈیسک کی کامیابی کا راز اس کو ماڈرن ٹیکنالوجی، ڈیزائن اور تکنیک کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر کرنا ہے۔ ہر روز سینکڑوں نئے پروجیکٹس او ڈیسک پر پیش کئے جاتے ہیں جنہیں انجام دینے کے لئے وی ورکر کی طرح آپ اپنی بولی لگاتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آپ مفت اکائونٹ کی صورت میں ایک ہفتے میں صرف بیس ہی پروجیکٹس پر بولی لگا سکتے ہیں۔ مزید پروجیکٹس پر بولی لگانے کیلئے یا تو آپ اگلے ہفتے کا انتظار کرتے ہیں یا پھر آپ کو فیس ادا کرکے اپنا اکائونٹ اپ گریڈ کرنا ہوتا ہے۔
وی ورکر کی طرح او ڈیسک پر بھی پروجیکٹس دو طرح کے ہوتے ہیں۔ اول وہ پروجیکٹس جن کے لئے آپ کو پہلے سے طے شدہ رقم (جو آپ نے بولی کی صورت میں لگائی تھی) ادا کی جاتی ہے جبکہ دوسرے پروجیکٹس وہ ہوتے ہیں جن کے لئے آپ فی گھنٹہ کے حساب سے پیسے وصول کرتے ہیں۔ اس طرح آپ جتنا کام کرتے ہیں، اسی کے مطابق آپ کو پیسے ملتے ہیں۔
یہاں بھی وی ورکر کی طرح لاکھوں کی تعداد میں لوگ پروجیکٹس حاصل کرنے کے لئے ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ اس لئے یہاں بھی اپنا کیریئر شروع کرنے کے لئے آپ کو کافی محنت کرنی ہوگی۔ شروع میں کوشش کریں کہ کم سے کم مالیت میں کام کرنے کی پیش کش کریں۔ اپنے Proposalمیں یہ باور کروائیں کہ کم قیمت ہونے کے باوجود آپ یہ کام بہترین اندازمیں کرسکتے ہیں۔ ایک بار جب آپ کی پروفائل اور ریٹنگ بہتر ہوجائے، پھر آپ اپنی مرضی کے مطابق پیسے وصول کریں۔ اچھی ریٹنگ اور پروفائل رکھنے والے افراد یا کمپنیاں او ڈیسک پر کام تلاش نہیں کرتیں، بلکہ کام کروانے والے خود انہیں ڈھونڈ کر کام کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔

ای لانس

http://www.elance.com
ای لانس بھی او ڈیسک کی طرح مشہور و معروف ویب سائٹ ہے۔ پاکستان میں دیکھی جانے والی سب سے زیادہ ویب سائٹس میں اس کا شمار 118واں ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی فری لانسر کس قدر سنجیدگی کے ساتھ یہاں کام کرنے میں مصروف ہیں۔صرف پاکستانی ہی نہیں، بنگلہ دیشی، بھارتی اور چھوٹی معیشتوں کے حامل کئی ممالک کے فری لانسر آپ کو یہاں اپنا روزگار کماتے نظر آئیں گے۔ کام کے اعتبار سے یہ ویب سائٹ بھی دوسروں مختلف نہیں۔ اس ویب سائٹ پر بھی دیگر کی طرح آپ پروجیکٹس حاصل کرنے کے لئے اپنے پروپوزل جمع کرواتے ہیں اور بولیاں لگاتے ہیں۔ ای لانس بھی کافی پرانی ویب سائٹ ہے جس کے کام کرنے کا طریقہ کار بھی باقی ویب سائٹس جیسا ہی ہے۔ پروجیکٹس پر کام کروانے والے یہاں Clientsکہلاتے ہیں جبکہ کام کرنے والے Contractors۔ ای لانس پر زیادہ تر کام پروگرامنگ اور ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے ملتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق ای لانس پر کام کرنے والے 39فی صد کنٹریکٹرکی کمائی کا واحد ذریعہ ای لانس ہی ہے۔ یہ تمام باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ فری لانسنگ کس قدر قابل اعتماد کام ہے اور کس قدر منافع بخش بھی۔
ای لانس پر رجسٹریشن مفت ہے تاہم کچھ پابندیوں کے ساتھ۔ مکمل سہولیات سے فائدہ اٹھانے کے لئے آپ کو ماہانہ فیس ادا کرنی ہوتی ہے۔ لیکن کام شروع کرنے کے لئے مفت اکائونٹ ہی کافی ہے۔

گرو ڈاٹ کام

http://www.guru.com
یہ ویب سائٹ 1998ء سے آن لائن ہے تاہم پہلے اس کا نام eMoonlighter.com  تھا۔ 1999ء میں اسے باقاعدہ Guruکا نام دیا گیا۔یہی وجہ ہے کہ اب تک اس ویب سائٹ پر کروڑوں ڈالرز کا کاروبار ہوچکا ہے۔ باقی فری لانسنگ ویب سائٹس کی طرح یہاں بھی پروجیکٹس کروانے والے لوگوں کی بھرمار ہے اور اسی طرح پروجیکٹ حاصل کرنے کے لئے ہزاروں پروگرامر، ڈیزائنر اور ڈیویلپر تیار بیٹھے ہیں۔ گرو کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ویب سائٹ فری لانسنگ کی فیلڈ میں نئے آنے والوں کے لئے بہترین نہیں ہے۔ اس ویب سائٹ کا صحیح معنوں میں فائدہ اسی وقت اٹھایا جاسکتا ہے جب کہ آپ ایک باقاعدہ سافٹ ویئر ہائوس کی طرح کام کررہے ہیں اور کئی پروگرامر اور ڈیویلپر آپ کے پاس موجود ہوں۔ اس کی فیس بھی قدرے زیادہ ہی ہے۔ شروع میں ہم یہی کہیں گے کہ گرو کے بجائے دوسری ویب سائٹس پر توجہ دیں اور اسے اس وقت تک کے لئے چھوڑ دیں جب تک کہ آپ فری لانسنگ کی الف ب سے اچھی طرح واقف نہیں ہوجاتے۔

فری لانسر

http://www.freelancer.com
یہ ویب سائٹ اگرچہ بہت پرانی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود آج کل فری لانسرز کی پسندیدہ ویب سائٹس میں شمار ہوتی ہے۔ یہ دراصل کئی دوسری فری لانسسنگ ویب سائٹس کا مربع ہے۔ GetAFreelancer.com، EUFreelance.com، LimeExchange، Scriptlance وغیرہ چند ویب سائٹس ہیں جنہیں جمع کرکے فری لانسرڈاٹ کام بنائی گئی ہے۔ اسکرپٹ لانس سے ان کا معاہدہ حال ہی میں انجام پایا ہے۔ اس ویب سائٹ کے بارے شکایت کی جاتی ہے کہ یہ فری لانسرز کے اکائونٹ بلا وجہ بند کردیتی ہے اور انہیں اپنے پیسے بھی نکالنے کی اجازت نہیں دیتی۔ لیکن ویب سائٹ پر جس طرح فری لانسرز کام کررہے ہیںاور یہ ویب سائٹ ترقی کرہی ہے، وہ اس بات کی نفی کرتی ہے۔ یہاں کام کرنا نسبتاً آسان ہے جبکہ انٹرفیس بھی آسانی سے سمجھ میں آجانے والا ہے۔ رجسٹریشن کا عمل بھی مفت ہے۔
اختتامیہ
تو قارئین آپ نے دیکھا کہ انٹرنیٹ سے پیسے کمانا بالکل ایک حقیقت ہے۔ اصل بات درست راستے پر چلنے کی ہے۔ فراڈ یا دھوکہ دہی کہ ذریعے شاید کوئی چند دن تو انٹرنیٹ پر پیسے بنا لے گا لیکن یہ عمل عارضی ہی ثابت ہوتاہے۔ اصل زندگی میں جس طرح آپ کاروبار کرتے ہیں، انٹرنیٹ پر کاروبار کرنا اس سے کچھ خاص مختلف نہیں ہے۔ آپ کی ایمانداری اور محنت آپ کو انٹرنیٹ پر اُس سے کہیں زیادہ کما کر دے سکتی ہے جتنا آپ عام زندگی میں کما سکتے ہیں۔ نیز، بات صرف پیسے کمانے تک محدود نہیں، غیر ملکیوں کے ساتھ کام کرنے سے آپ کو ایک نیا تجربہ حاصل ہوگا جو کہ اصل زندگی میں آپ کے بے حد کام آئے گا۔
اس سلسلے کی اگلی قسط پڑھنا مت بھولیے گا جس میں ہم ذکر کریں گے کہ آن لائن کمائی گئی رقم کو پاکستان کن کن ذریعوں سے منگوایا جا سکتا ہے۔

Monday, 17 November 2014

Submit Your Site/blog To 99+ Search Engines With One Click

Submit Your Site/blog To 99+ Search Engines With One Click

Submit your web site or journal to 100+ search engines in one click. You the importance of submitting your web site sitemap to google and yahoo webmaster tools. however here would be ready to submit solely site link to far-famed site like rediff.com and far additional. it's easy method to submit your web site, to those search engines. If you continue to wish to submit your journal to several search engines, you'll go here.

How to submit web site to 100+ Search Engines?
Just visit Free web site Submission
Enter you journal address and email ID ( attempt to use different email ID to induce free from spamming)
You can additionally uncheck to forestall submission to sites you don’t want.
Click on Submit.
Note: Some search engines ought to ensure your submission, thus open your email and activate it.